ڈالر ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح 165روپے پر پہنچ گیا Skip to main content

ڈالر ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح 165روپے پر پہنچ گیا


 کاروباری ہفتے کے چوتھے روز انٹربینک میں ڈالر کی قیمت میں تین روپے 40 پیسے کا اضافہ ہوگیا جس کے بعد یہ ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے. فاریکس ڈیلرز کے مطابق انٹر بینک میں ڈالر 161 روپے 60 پیسے سے بڑھ کر 165 روپے پر پہنچ گیا ہے ماہرین کے مطابق شرح سود میں کمی کے فیصلے کے بعد ڈالر کی خریداری کی جارہی ہے جس کے باعث عارضی طور پر اس کی قیمت میں اضافہ دیکھا جارہا ہے گزشتہ روز بھی ڈالر کی قیمت میں تین روپے کا اضافہ ہوا تھا. گزشتہ سال کے آغاز میں ڈالر کی قیمت مسلسل بڑھتی رہی، جنوری میں ڈالر 138 روپے 93 پیسے، فروری میں 138 روپے 90 پیسے اور مارچ میں 139 روپے10 پیسے تک پہنچ گیا.
اپریل 2019 میں ڈالر نے بڑی چھلانگ لگائی اور 141 روپے 50 پیسے پر آ گیا مئی میں اس کی قیمت میں تاریخ کا ایک بڑا اضافہ دیکھا گیا اور یہ 151 روپے تک پہنچ گیا.جون میں ڈالر نے تمام ریکارڈ توڑ دیے اور تاریخ کی بلند ترین سطح 164 روپے پر پہنچ گیا جولائی 2019 میں ڈالر کی اڑان رک گئی اور ڈالر کمی کے بعد انٹربینک میں 160 روپے اور اوپن مارکیٹ میں 161 روپے کا ہوگیا.اگست 2019 میں روپے نے ڈالر کا جم کر مقابلہ کیا اور ڈالر 157.20 روپے تک پہنچ گیا ستمبر 2019 کے اختتام پر ڈالر کی قیمت میں مزید کمی واقع ہوئی اور یہ 156.40 روپے پر پہنچ گیا.اکتوبر 2019 کے اختتام پر روپے کی قدر مزید بہتر ہوئی اور ڈالر کی قیمت 155.70 روپے رہ گئی نومبر2019 کے اختتام پر ڈالرکی قیمت خرید 155.25 اور قیمت فروخت 155.65 تھی گزشتہ چھ ماہ سے ڈالر کی قیمت میں مسلسل کمی دیکھنے میں آرہی تھی اور اس دوران 9 روپے کی کمی آئی.



Comments