لاہور: پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے اعلان کے ایک روز بعد مسلم لیگ (ن) کے 14 اراکین اسمبلی نے اپنے استعفے قیادت کو جمع کروادیے۔
ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق پی ڈی ایم کی جانب سے اعلان کیا گیا تھا کہ اس کے تمام اراکین صوبائی و قومی اسمبلی 31 دسمبر تک اپنی جماعتوں کے قائدین کو اپنے استعفے جمع کروادیں گے۔
تاہم مسلم لیگ (ن) کے 2 باغی اراکین صوبائی اسمبلی جلیل شرقپوری اور غیاث الدین نے لان کیا کہ وہ اسمبلی کی رکنیت سے مستعفی نہیں ہوں گے کیوں کہ وہ نواز شریف کے فوج مخالف نظریے سے متفق نہیں ہیں۔مسلم لیگ (ن) کے جن اراکین قومی اسمبلی نے اپنے استعفے پارٹی قیادت کو جمع کروائے ان میں خیل داس کوہستانی(این اے-339) اور بشیر ورک (این اے-80) شامل ہیں۔ان کے علاوہ جن اراکین صوبائی اسمبلی نے استعفے دیے ان میں سمیع اللہ خان (پی پی-144)، ناصر محمود (پی پی-27)، جہانگیر خانزادہ (پی پی-2144)، چوہدری بلال اکبر (پی پی-49)، عادل بخش چھٹا (پی پی-52)، ملک صہیب احمد (پی پی-72)، اختر حسین (پی پی-167)، صفدر شاکر(پی پی-104)، بلال فاروق تارڑ (پی پی-53)، جبکہ مخصوص نشستوں کی خواتین اراکین عظمیٰ بخاری، عنیزہ فاطمہ، راحیلہ خادم حسین اور حنا پرویز بٹ شامل ہیں۔اراکین قومی اسمبلی افضل کھوکھر (این اے-136) اور چوہدری حامد حمیر (این اے-90) اور رکن صوبائی اسمبلی سیف الملوک کھوکھر (پی پی-165) نے پی ڈی ایم کے اعلان سے قبل ہی استعفے جمع کروادیے تھے۔
زیادہ تر اراکین نے 2018 کے عام انتخابات میں دھاندلی، مہنگائی کو اپنے استعفوں کی وجہ قرار دیا اور ووٹ کے تقدس اور پاکستان کی ترقی کے لیے آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کروانے کا بھی مطالبہ کیا۔ذرائع کا کہنا تھا کہ ایسی قوتیں سرگرم ہوگئی ہیں جو کئی اراکین اسمبلی کو استعفے دینے سے روک کر پی ڈی ایم کو نیچا دکھانا چاہتی ہیں۔
بلوچستان اسمبلی کے 3 اراکین کا مستعفی ہونے کا فیصلہ
دوسری جانب بلوچستان اسمبلی کے 3 اراکین اسمبلی نے بھی پی ڈی ایم کے اعلان کے مطابق استعفے دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق سابق وزیر اعلیٰ اسلم رئیسانی جو 2018 کےا نتخابات میں آزاد حیثیت میں منتخب ہوئے تھے، بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل کے اختر حسین لانگو، اور جمعیت علمائے اسلام کے اقلیتی رکن شام لال نے استعفے دینے کا فیصلہ کیا۔ذرائع کا کہنا تھا کہ نواب اسلم رئیسانی نے مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کے لندن سے رابطہ کرنے اور پی ڈی ایم کے لیے ان کی حمایت کی درخواست پر یہ فیصلہ کیا۔ان میں سے اختر حسین لانگو نے اپنا استعفیٰ بلوچستان اسمبلی کے اسپیکر کو جمع کروادیا ہے۔

Comments
Post a Comment